بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
گناہوں کی پردہ پوشی
’’ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي النَّجْوَى قَالَ " يَدْنُو أَحَدُكُمْ مِنْ رَبِّهِ حَتَّى يَضَعَ كَنَفَهُ عَلَيْهِ فَيَقُولُ عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا. فَيَقُولُ نَعَمْ. وَيَقُولُ عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا. فَيَقُولُ نَعَمْ. فَيُقَرِّرُهُ ثُمَّ يَقُولُ إِنِّي سَتَرْتُ عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا، فَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ ".‘‘
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تمام احادیث پر نظر رکھتے ہوئے بڑی جامع بحث کی ہے کہ اہل ایمان میں سے گناہ گاروں کی دو قسمیں ہوں گی: ایک وہ گناہ گار جن کے گناہ صرف اللہ تعالیٰ کے حقوق سے متعلق ہوں گے اور دوسرے وہ گناہ گار جنھوں نے حقوق العباد میں کوتاہی کی ہوگی۔
جن کے گناہ صرف حقوق اللہ سے متعلق ہوں گے ان کی پھر دوقسمیں ہوں گی:
ایک وہ جن پر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں پردہ ڈلا ہوگا، انھیں تو معاف کر دیا جائے گا۔ اور دوسرے وہ جنھوں نے اپنے گناہوں کو نشر کیا ہوگا، انھیں معاف نہیں کیا جائے گا۔
جن کے گناہ حقوق العباد سے متعلق ہوں گے، ان کی بھی دوقسمیں ہوں گی:
ایک وہ جن کی برائیاں، نیکیوں سے زیادہ ہوں گی تو انھیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔وہ سزا پا کر یا سفارش سے جہنم سے نکل آئیں گے۔ دوسرے وہ جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی، ان سے بدلہ لے کر جنت میں داخلے کی اجازت مل جائے گی جیسا کہ ایک حدیث میں اس کی صراحت ہے۔(صحیح البخاري، المظالم، حدیث۔۲۴۴۰ )
دین اسلام نے دو قسم کے حقوق بیان کیئے ہیں۔ ایک ’’حقوق اللہ‘‘ جس کا تعلق براہِ راست اﷲ تبارک و تعالیٰ سے ہے جن میں توحید، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج شامل ہیں جبکہ دوسرا ’’حقوق العباد‘‘ ہے جس کا تعلق براہِ راست خلق خدا سے ہے۔
اسلام نے حقوق العباد کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔حقوق العباد سے مراد وہ حقوق ہیں جو انسانوں کے باہمی تعلقات، لین دین، معاملات، عزت، مال، جان اور دیگر معاشرتی و مالی امور سے متعلق ہوتے ہیں۔ یہ وہ حقوق ہیں جن کا تعلق براہ راست انسانوں کے ساتھ ہے اور ان کی ادائیگی یا عدم ادائیگی پر دنیا و آخرت میں بازپرس ہوتی ہے۔ اور ان کی ادائیگی میں کوتاہی پر اللہ تعالیٰ سخت مواخذہ فرماتا ہے۔
مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟‘‘ صحابہ نے کہا: ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم ہو، نہ کوئی سازوسامان۔ آپ نے فرمایا: ’’میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکاۃ لے کر آئے گا اور اس طرح آئے گا کہ (دنیا میں) اس نے اس کو گالی دی ہو گی، اس پر بہتان لگایا ہو گا، اس کا مال کھایا ہو گا، اس کا خون بہایا ہو گا اور اس کو مارا ہو گا، تو اس کی نیکیوں میں سے اس کو بھی دیا جائے گا اور اس کو بھی دیا جائے گا اور اگر اس پر جو ذمہ ہے اس کی ادائیگی سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہوں کو لے کر اس پر ڈالا جائے گا، پھر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔‘‘(صحيح مسلم: ۶۵۷۹)
یعنی ساری شکایتیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونگی۔ فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اس کی نیکیاں مدعی کے دعوے کے ساتھ وزن کر و جتنی نیکیاں اس دعوے کے ساتھ پوری ہوں وہ مدعی کو دے دو۔ چنانچہ اس کی نیکیاں تقسیم ہونے لگیں گی۔ اس کی نمازیں، روزے، زکوٰۃ ، صدقات و خیرات، حج و عمرے کی نیکیاں تقسیم ہوں گی ۔ آخر میں فرشتے عرض کریں گے مولا! نیکیاں ساری ختم ہو گئیں، نمازیں بھی ختم ہو گئیں، روزے ختم ہو گئے ، صدقات وخیرات، حج و عمرے، تلاوتیں ختم ہو گئیں موازنہ کر کے دے دی گئیں، لیکن شکایتیں اور مطالبے اب بھی باقی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اب مدعی کے گناہوں کا وزن کرو، اس کے دعوے کے مطابق اور جو گناہ اس کے دعوے کے مطابق ہوں وہ اس کے حصے میں لگا دو ۔ مدعی کے گناہوں کا وزن ہونے لگے گا۔ جتنی شکایتیں ہوں گی اتنے گناہ اس کے حصے لگائے جائیں گے۔ اس طرح وہ نمازیں، روزے حج و عمرے ، صدقات و خیرات تلاوتیں کرنے والا ، اتنی نیکیاں لانے والا جہنم میں ڈالا جائے گا۔
یہ ہے وہ مفلس جس کے پاس کچھ نہیں رہا اس لئے فرمایا گیاکہ مرنے سے پہلے حقوق ادا کر دو ۔فیصلے کا دن آنے سے پہلے حقوق ادا کر دو ۔ آپ نے اندازہ لگایا کہ اسلام میں حقوق العباد کو کتنی اہمیت حاصل ہے۔
جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ جن کے گناہ صرف حقوق اللہ سے متعلق ہوں گے ان میں سے کچھ وہ ہونگےجن پر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کے گناہوں پردہ ڈلا ہوگا۔ ان سے گناہوں کا اقرار کراکر انھیں معاف کر دیا جائے گا۔ لیکن کچھ لوگ وہ ہونگے جنھوں نے اپنے گناہوں کو نشر کیا ہوگا۔ انھیں معاف نہیں کیا جائے گا،بلکہ اس کی سزا بھگتنی پڑےگی۔اس لئے انسان کوچاہیے کہ وہ اپنے گناہوں کو خود ہی لوگوں میں ظاہر نہ کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’جن برائیوں سے اللہ نے منع کیا ہے ان سے پرہیز کرو اگر کوئی ان کا ارتکاب کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ انھیں نشرنہ کرے بلکہ اللہ کے پردے میں انھیں چھپائے رکھے‘‘۔(المستدرك للحاکم ۔۸۱۵۸)
لہٰذا اگر کوئی شخص کسی گناہ میں مبتلا ہو جائے تو اسے چاہیے کہ اس گناہ کو چھپائے رکھے اور اللہ سے توبہ کرے، نہ کہ اس کو لوگوں میں ظاہر کرے۔ ان ا حادیث میں قیامت کے دن مؤمنین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خصوصی شفقت اور رحمت کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ مؤمنین کو سب کے سامنے رسوا نہیں کرے گا بلکہ اسے اپنے قریب کر کے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا اور جب وہ اقرار کر لے گا تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا ۔ اس کے بعد اس کو اس کے نیک اعمال کا نامہ اعمال دے دیا جائے گا۔ اس کے برعکس کافر اور منافقین کے گناہوں کا اعلان سب کے سامنے کیا جائے گا اور ان پر اللہ کی لعنت ہو گی۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ مؤمنین کے گناہوں کو دنیا میں بھی چھپاتا ہے اور آخرت میں بھی اپنی رحمت سے معاف فرما دیتا ہے، بشرطیکہ وہ ایمان اور اخلاص کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہوں۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور سترپوشی کی عظیم صفت ظاہر ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ وہ ہمارے تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کی مغفرت فرمائے۔ آمین
اہم نکات
-نیز لوگوں کے سامنے اسے رسوائی سے بچانے کے لیے صرف نیکیوں کا اعمال نامہ اسے دیا جائے گا۔
- اس کے برعکس کافر اور منافق کو اللہ تعالیٰ سرعام ذلیل ورسوا کرے گا ۔
🔗 مزید مطالعہ